ابنا: ہوگو شاویز فوجی، سیاستدان ، عوام کے محبوب رہنما تھے، جب نائب صدر نے موت کا اعلان کیا تو تمام قیادت آبدیدہ تھی، غم سے نڈھال عوام دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ اٹھاون برس عمر تھی، جون دو ہزار گیارہ میں کینسر کی تشخیص ہوئی جس کے بعد کیوبا میں چار آپریشن ہوئے، آخری بار فروری میں اپنا علاج کراکے واپس آئے تھے تاہم طبعیت سنبھل نہ سکی اور کینسر سے دو سالہ جنگ میں زندگی ہار گئے۔ وینزویلا کے جنوبی صوبے میں رہائش پذیر متوسط طبقے کے ٹیچر کے سات بچوں میں شاویز چھٹے نمبر پر تھے۔ فوج میں پیراٹروپر شاویز نے انیس سو بانوے میں اس وقت کے صدر کارلوس پیریز کے خلاف ناکام بغاوت کی، دو سال جیل کاٹی، رہا ہو کر نئی جماعت بنائی۔ انیس سو اٹھانوے میں صدر منتخب ہوگئے اور ملک کے عظیم انقلابی بولیوریا کے ادھورے خواب کی تکمیل کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ تعلیم اور صحت کے پروگرام شروع کئے، مغربی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھگاکر تمام بڑے ادارے قومیا لیے، ملک کو ترقی کی نئی شاہراہ پر ڈال دیا۔ بے پناہ عوامی مقبولیت کے باعث دو ہزار دو میں تختہ الٹنے کی کوشش ناکام ہوگئی اور ایک ریفرنڈم کے ذریعے شاویز پہلے سے زیادہ طاقت ور بن کر ابھرے۔ دو ہزار ایک میں امریکا کے ساتھ تعلقات اس وقت خراب ہوگئے جب شاویز نے دہشتگردی کے خلاف امریکی پالیسی کو بھی ایک دہشتگردی قرار دیا۔ کیوبا کے دائیں بازو کے رہنما فیڈل کاسترو کے قریبی حلیف نے ہر میدان پر امریکا کو للکارا، پابندیوں کے باوجود عراقی صدر صدام حسین اور معمر قذافی کے ساتھ ان کے ممالک جا کر ملاقاتیں کرنے والے دنیا کے پہلے رہنما بن گئے۔ اپنی بے پناہ صاف گوئی کی وجہ سے شاویز ہمیشہ امریکا کو تلخ ناموں سے پکارتا رہا، آج جب ان کی موت کا اعلان ہوا تو نائب صدر مدورو پر شاویز کے ادھورے انقلاب کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے، اگرچہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے۔
.....
/169